عام طور پر تجوید کو حروف کے مخارج اور صفات تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالانکہ فصیح تلاوت میں ایک بہت بڑا حصہ وقت کی تقسیم سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر زبر، زیر، پیش، ہر مد، ہر غنہ اور ہر وقف دراصل چند سو millisecond کے مخصوص خانوں میں بٹا ہوتا ہے۔ اگر یہ خانے بہت چھوٹے یا بہت بڑے ہو جائیں تو معنی، تاثیر اور حسن — تینوں متاثر ہوتے ہیں۔
1 — انسانی آواز اور millisecond
جب ہم کسی حرف کو ادا کرتے ہیں تو گلے، زبان، ہونٹوں اور پھیپھڑوں کے درمیان ہوا کے بہاؤ اور دباؤ کی ایک لڑی بنتی ہے۔ جدید تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ عام بول چال میں ایک harakah عموماً تقریباً 120–180 millisecond تک رہتی ہے۔ قرآن کی تلاوت میں شعوری طور پر رفتار کو قابو کر کے کچھ مقامات پر اسی مدت کو بڑھایا یا گھٹایا جاتا ہے — یہی تجویدِ وقت ہے۔
- اگر harakah کے بجائے ہر حرف کو 50 ms میں ختم کر دیا جائے تو تلاوت مشین کی طرح تیز اور بے احساس ہو جاتی ہے۔
- اگر عام حروف کو 250–300 ms تک کھینچا جائے تو بولنے کا rhythm ٹوٹتا ہے اور سننے والے کو بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
2 — مد: وقت کے خانے بڑھانا
مد کی ساری تعریفیں دراصل اس بات کے گرد گھومتی ہیں کہ حرف کو اپنے معمول سے کتنی دیر زیادہ کھینچا جائے۔ “دو حرکت” اور “چار حرکت” بنیادی طور پر وقت کے پیمانے ہیں۔ اگر ایک حرکت کو اوسطاً 150 ms مانیں تو:
- مدِ طبیعی ≈ 2 حرکت ≈ تقریباً 300 ms
- مدِ لازم ≈ 4–5 حرکت ≈ تقریباً 450–750 ms
3 — غنہ: ناک اور وقت کا توازن
غنہ میں دو چیزیں اہم ہیں: (1) ناک سے آواز کی شرکت (2) اس شرکت کی مدت۔ اگر مدت بہت کم ہو تو غنہ سرسری سا ہو کر رہ جاتا ہے، اور اگر بہت لمبی ہو تو حرف اپنی جگہ سے نکل کر ناک کی آواز بن جاتا ہے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ عام رفتارِ تلاوت میں نون یا میم مشدد کا متوازن غنہ عموماً 180–230 ms کے درمیان رہتا ہے۔ 365K انجن اسی window کو بنیاد بنا کر ہر recitation میں حقیقی مقدار ناپتا ہے اور زائد یا کم ہونے پر رپورٹ بناتا ہے۔
4 — وقف: معنی کے لئے خاموشی کا سائنسی کردار
وقف کے دوران ہونے والی خاموشی محض سانس لینے کا وقفہ نہیں، بلکہ معنی کو دل میں اترنے دینے کا موقع ہے۔ انسانی دماغ کو سنی ہوئی جملہ مکمل طور پر absorb کرنے کے لئے چند سو millisecond درکار ہوتے ہیں۔
عام تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جملہ ختم ہونے کے بعد اگر خاموشی 100–150 ms سے کم ہو تو سننے والا لاشعوری طور پر اگلا جملہ “پچھلے کے ساتھ” جوڑ دیتا ہے، اور اگر خاموشی تقریباً 350–500 ms ہو تو ذہن کو ایک مکمل “سانس” ملتا ہے۔ اسی لئے 365K انجن آیات کے آخر میں وقف کی خاموشی کو اس پیمانے سے measure کرتا ہے۔
5 — کیوں millisecond، صرف “حرکت” کافی کیوں نہیں؟
روایتی کتبِ تجوید میں “دو حرکت، چار حرکت” جیسے الفاظ آتے ہیں، لیکن عملی کلاسوں میں ہر استاد کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی “دو حرکت” کسی جگہ 250 ms بن جاتی ہے، کہیں اور 180 ms۔
365K انجن کا مقصد کسی کتاب کو بدلنا نہیں، بلکہ انہی حرکات کو عددی پیمانے پر لے آنا ہے، تاکہ:
- دنیا کے مختلف ممالک کے قراء کا معیار ایک پیمانے پر compare ہو سکے۔
- شاگرد اپنی yesterday اور today کی تلاوت کو pure numbers میں دیکھ سکے کہ “میں نے غنہ واقعی کم کیا ہے یا صرف احساس ہوا ہے؟”
اس طرح “حرکت” کی روایتی زبان بھی محفوظ رہتی ہے، اور ساتھ ساتھ جدید numerical language بھی پیدا ہو جاتی ہے۔