مثال 1 — غنہ میں زیادتی اور اصلاح سے پہلے / بعد کا فرق

شاگرد نے لفظ ﴿ثُمَّ﴾ پڑھا۔ پہلی بار غنہ بہت لمبا تھا، دوسری بار استاد کی ہدایت کے بعد درست ہوا۔

قراءة غنہ ms ideal رینج AI تشخیص
پہلا attempt 320 ms 180–240 ms زیادتی، over-nasalization
استاد کی رہنمائی کے بعد 215 ms 180–240 ms غنہ توازن پر، سبز اشارہ

365K رپورٹ میں پہلے اور بعد کے دونوں گراف ساتھ دکھائے جاتے ہیں تاکہ شاگرد کو اپنی محنت کا نتیجہ آنکھوں سے دکھائی دے اور وہ صرف “احساس” پر نہیں بلکہ numerical ثبوت پر اعتماد کرے۔

مثال 2 — مدِ لازم کم پڑھنے کا مکمل X-Ray

آیت میں ایک جگہ مدِ لازم تھا، جسے کم از کم 4–5 حرکت ہونا چاہئے۔ شاگرد نے اسے تقریباً مدِ طبیعی کے برابر پڑھا۔

جز پڑھی گئی مدت ideal ms فرق
مدِ لازم (حرفِ سکون کے ساتھ) 240 ms 450–650 ms تقریباً نصف، مد واضح کم
آس پاس کے عام حروف 140 ms 110–180 ms حد کے اندر، مسئلہ صرف مد میں

رپورٹ میں اسی مقام کو پیلے رنگ سے نشان زد کر کے الگ مشق دی جاتی ہے کہ شاگرد صرف اسی مد کو لمبے سانس کے ساتھ کئی بار دہرائے، یہاں تک کہ نئی reading 500 ms کے قریب آ جائے۔

مثال 3 — وقف میں حد سے زیادہ جلدی

ایک قاری ہر آیت کے آخر میں بہت جلدی سانس لیتا اور فوراً اگلی آیت شروع کر دیتا تھا۔ سُننے والے کو آیات آپس میں جڑی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔

پیرامیٹر پہلے ms ideal رینج بعد میں ms
آیت کے آخر کی خاموشی 140 ms 350–600 ms 410 ms
اگلی آیت شروع ہونے کا delay 50 ms 70–130 ms 95 ms

پہلے گراف میں آیات تقریباً ایک لائن میں جڑی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اصلاح کے بعد ہر آیت کے آخر میں واضح خالی جگہ بنی، جس سے تلاوت میں وقار اور سکون پیدا ہوا۔

مثال 4 — پوری آیت کا خلاصہ رپورٹ

یہاں ایک فرضی آیت کا مجموعی خلاصہ دکھایا جا رہا ہے کہ 365K انجن ایک مکمل آیت کو کیسے summarize کرتا ہے:

جز اسکور نوٹ
harakah timing 86 / 100 زیادہ تر حروف متوازن، چند جگہ معمولی جلدی
مد 72 / 100 2 مدِ لازم کم، 1 مدِ متصل قدرے لمبا
غنہ 90 / 100 ایک مقام پر قدرے زیادہ، مجموعی طور پر اچھا
وقف 68 / 100 کچھ آیات کے آخر پر وقف چھوٹا، مزید سکوت کی ضرورت

اسی خلاصہ سے شاگرد کو فوری طور پر پتا چل جاتا ہے کہ اس آیت میں کس پہلو پر سب سے زیادہ محنت کرنی ہے — مد، غنہ یا وقف میں سے کون سا کمزور ترین ہے۔