مخرج کی سائنس — آواز اصل میں کہاں بنتی ہے؟

علمِ تجوید میں مخرج سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے حرف کی آواز پیدا ہو کر واضح شکل اختیار کرتی ہے۔ عموماً ہم بس اتنا سنتے ہیں کہ “یہ حلق سے ہے، یہ زبان سے، یہ ہونٹوں سے” لیکن 365K مخارج MRI لیب میں ہم ہر حرف کے پیچھے ہونے والا دباؤ، ہوا کا بہاؤ اور گونج عددي پیمانوں پر ناپتے ہیں، تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ آواز کا زور واقعی اسی حصے پر ہے یا کسی اور طرف کھسک گیا ہے۔

1 — آواز کا راستہ: حلق → زبان → ہونٹ → ناک

انسان جب حرف ادا کرتا ہے تو ہوا سینے سے نکل کر ایک لمبے راستے سے گزرتی ہے:

  • پہلے حلق کے تین حصے: گہرائی، وسط، اوپر کی طرف۔
  • پھر زبان کا پچھلا حصہ، درمیانی حصہ اور نوک۔
  • پھر ہونٹ، جہاں سے ف، ب، م، و جیسے حروف بنتے ہیں۔
  • ساتھ ساتھ ناک کی گونج، جو غنہ اور کچھ حروف میں شامل ہوتی ہے۔

365K نظام اس پورے راستے کو چند بڑے “زونز” میں تقسیم کرتا ہے — حلقی زون، زبانی زون، شفوی زون، اور ناکی زون — پھر ہر حرف کی آواز کو دیکھتا ہے کہ کس زون میں کتنا حصہ فعال ہوا۔

2 — دباؤ اور رگڑ کو کیسے ناپتے ہیں؟

ہر حرف کی آواز میں دو بنیادی چیزیں ہوتی ہیں: بندش (جہاں ہوا رکی) اور رگڑ (جہاں ہوا تنگ راستے سے گزری)۔ جیسے:

  • قاف میں گہرے حلق اور زبان کے پچھلے حصے کے درمیان مضبوط بندش ہوتی ہے، پھر اچانک کھلتی ہے۔
  • سین میں زبان اور دانتوں کے درمیان باریک راستہ بنتا ہے جس سے مسلسل سرسراہٹ پیدا ہوتی ہے۔

مخارج MRI لیب آواز کے اندر ان بندشوں اور رگڑوں کے pattern کو دیکھتی ہے: کہاں دباؤ سب سے زیادہ تھا، کتنی دیر تک رہا، اور اس کے فوراً بعد ہوا کس طرف پھیلی۔

یہی pattern ہمارے لئے “مخرج کا فنگرپرنٹ” بن جاتا ہے۔ ہر حرف کا فنگرپرنٹ الگ ہوتا ہے، اور یہی فنگرپرنٹ 365K انجن میں محفوظ رہتا ہے۔

3 — 365K میں مخرج زونز کی coding

عملی طور پر ہم ہر آواز کو بہت چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتے ہیں (مثلاً ہر 10 millisecond کا ایک ٹکڑا) اور ہر ٹکڑے کے لئے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ حلق، زبان، ہونٹ اور ناک میں سے کس جگہ کی گونج اور دباؤ غالب ہے۔

ہر ٹکڑے کیلئے ایک سادہ سا تناسب بنایا جاتا ہے، مثلاً:

  • حلق: 60%
  • زبان: 25%
  • ہونٹ: 5%
  • ناک: 10%

اگر کسی حرف کا مثالی مخرج حلق میں 70% اور زبان میں 20% ہو اور قاری کے پڑھنے میں حلق کی حصہ داری 40% رہ گئی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آواز حلق سے ہٹ کر زبان کی طرف سرک رہی ہے۔

4 — مخرج drift کیا ہے؟

drift سے مراد یہ ہے کہ حرف اپنی اصل جگہ سے کتنے فیصد کسی اور زون کی طرف چلا گیا۔ مثال کے طور پر:

  • قاف کا مثالی نقشہ: حلق 70% ، زبان 20% ، ہونٹ 10%
  • قاری کی reading: حلق 45% ، زبان 40% ، ہونٹ 15%

اس صورت میں ہم کہیں گے کہ قاف تقریباً 25 فیصد زبان کی طرف drift ہو گیا ہے، یعنی قاف میں کاف کی کیفیت آنا شروع ہو گئی۔ یہی drift 365K رپورٹ میں استاد اور شاگرد دونوں کے سامنے واضح لکھا آتا ہے۔

5 — صرف کان سے سننا کافی کیوں نہیں؟

تجربہ کار قاری یا استاد بہت سی باریکیاں کان سے سن لیتے ہیں، لیکن انسانی سماعت کی بھی حدود ہیں:

  • بعض الفاظ میں مخرج کا فرق صرف چند فیصد ہوتا ہے، جو عام سننے والے کے لئے تقریباً پوشیدہ رہتا ہے۔
  • جب قاری مسلسل پڑھ رہا ہو تو تھکن، دن کا وقت، یا ریکارڈنگ کا معیار بھی فیصلے کو بدل سکتا ہے۔
  • کلاس میں ہر شاگرد پر اتنا وقت دینا ممکن نہیں کہ ایک ایک حرف کا گراف بنا کر دیکھا جائے۔

365K مخارج MRI لیب کا کام استاد کو replace کرنا نہیں بلکہ اس کی آنکھوں کے سامنے اضافی مائیکروسکوپ رکھ دینا ہے — تاکہ جہاں کان سے صرف “ٹھیک / غلط” سنائی دیتا تھا، وہاں اب “کتنا ٹھیک، کس سمت غلط” بھی دکھائی دینے لگے۔

6 — مخرج سائنس اور روایتی تعلیم کا ربط

روایتی نظامِ تجوید میں مخارج الحروف کو بہت مضبوط، واضح اور سادہ انداز میں سمجھایا گیا ہے: حلقی، لسانی، شفوی، لہوی وغیرہ۔ 365K انجن انہی تقسیمات کو احترام کے ساتھ لیتا ہے، اور بس اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ہر زون کے لئے ایک عددی نقشہ بھی بنا دیتا ہے۔

اس طرح استاد جب “حلق سے پڑھو” کہتا ہے تو شاگرد کو اب یہ بھی دکھایا جا سکتا ہے کہ اس کے قاف میں حلق کی حصہ داری فی الحال 40% ہے، اور اگلی کوشش میں اسے 60% تک لانا ہے۔ یعنی حکم بھی وہی، زبان بھی وہی، بس proof اور measurement نئے دور کے مطابق ہو گئی۔