مثال 1 — قاف میں کاف کی ملاوٹ (حلق سے زبان کی طرف drift)
شاگرد نے لفظ ﴿قَالُوا﴾ پڑھا۔ استاد کو لگا کہ قاف ہلکا سا کاف کی طرف جا رہا ہے، لیکن باریک فرق تھا، صرف احساس پر فیصلہ مشکل تھا۔ 365K مخارج MRI لیب نے قاف کے acoustic نقشے سے یہ فیصد نکالے:
| پیرامیٹر | ideal قاف (٪) | شاگرد کی reading (٪) | drift |
|---|---|---|---|
| حلقی حصہ داری | 70% | 48% | 22% حلق سے کمی |
| لسانی (پچھلا) حصہ داری | 20% | 37% | 17% زبان کی طرف اضافہ |
| ہونٹ + ناک | 10% | 15% | 5% معمولی فرق (قبول) |
رپورٹ کا خلاصہ کچھ یوں لکھا گیا: “قاف تقریباً 20–25 فیصد کاف کے مخرج کی طرف drift ہوا ہے، اگلی کوشش میں حلق کے زور کو بڑھائیں، زبان کے دباؤ کو تھوڑا کم کریں۔” دوبارہ recitation کے بعد:
| پیرامیٹر | دوسری reading (٪) | فرق |
|---|---|---|
| حلقی حصہ داری | 66% | پہلے سے 18% زیادہ، ideal کے بہت قریب |
| لسانی حصہ داری | 24% | کاف کی طرف drift تقریباً ختم |
استاد کے لئے یہ صرف “اچھا ہو گیا” نہیں، بلکہ واضح numerical ثبوت بن گیا کہ قاف واقعی حلق کی طرف لوٹ آیا ہے۔
مثال 2 — صاد میں سین کی کیفیت (تفخیم میں کمی)
ایک طالبِ علم ﴿الصِّرَاطَ﴾ میں صاد کو بہت باریک پڑھتا تھا، سننے میں لفظ تقریباً “السِّراط” بن رہا تھا۔ 365K سسٹم نے صاد اور سین دونوں کے reference نقشے سے compare کر کے یہ رپورٹ بنائی:
| پیرامیٹر | ideal صاد | شاگرد کی reading | تشخیص |
|---|---|---|---|
| لسانی حصہ (tip & edge) | تقریباً 70% | 68% | حد کے اندر، اصل مسئلہ resonance میں |
| موٹی گونج (low-frequency energy) | ہائی | درمیانہ | تفخیم کم، سین کے قریب |
| ہونٹوں کی شرکت | 10% | 18% | سین کی طرح ہونٹ کھنچتے ہیں، صاد کی ہیبت کم ہو جاتی ہے |
اسی بنیاد پر رپورٹ میں لکھا گیا: “صاد کو پڑھتے وقت زبان کو اوپر کی طرف زیادہ چپکائیں، ہونٹوں کی حرکت کم رکھیں، اور حرف کے درمیان والے حصے میں موٹی گونج پیدا کریں۔” چند دن کی مشق کے بعد دوبارہ رپورٹ میں low-frequency energy کا لیول سین کے بجائے ideal صاد کے قریب آ گیا۔
مثال 3 — ر اور لام کا خلط (roll اور smoothness)
کچھ طلبہ “ر” کو بہت نرم لام کی طرح پڑھتے ہیں، اور کچھ “ل” کو بھی ہلکا سا rolling دے دیتے ہیں۔ 365K مخارج MRI لیب دونوں حروف کے tongue-motion pattern کو الگ الگ پکڑتی ہے۔
| حرف | tongue-contact time | release pattern | نوٹ |
|---|---|---|---|
| ideal ر | کم (تقریباً 40–60 ms) | تیز، تھوڑا bounce | roll محسوس ہوتا ہے، لیکن بہت لمبا نہیں |
| ideal لام | زیادہ (تقریباً 90–120 ms) | smooth، بغیر bounce | آواز نرم طریقے سے جاری رہتی ہے |
| شاگرد کا “ر” | 100 ms | smooth، bounce تقریباً ختم | لام کی طرح کھنچ گیا، roll کم ہوا |
رپورٹ کے مطابق شاگرد کے “ر” میں contact time ideal سے تقریباً دو گنا تھا۔ جب اس نے استاد کی ہدایت پر “ر” کو چھوٹا اور تھوڑا bounce دے کر پڑھا تو نئی reading میں contact time تقریباً 55 ms آگیا، جو ideal ر کے بہت قریب ہے۔
مثال 4 — ہر حرف میں ناک کی غیر ضروری شرکت (nasal leakage)
ایک قاری کی تلاوت میں تقریباً ہر حرف میں ناک کی ہلکی سی اضافی آواز شامل ہو جاتی تھی، جس سے پورا لہجہ “بہت ناک سے” محسوس ہوتا تھا۔ مخارج MRI لیب نے مختلف حروف کے لئے nose-resonance فیصد نکال کر یہ خلاصہ دیا:
| حروف کی قسم | ideal ناک حصہ داری | شاگرد کی reading | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| نون/میم میں غنہ | تقریباً 70% | 72% | حد کے اندر، غنہ مناسب |
| عام لسانی حروف (س، ل، ک وغیرہ) | 0–10% | 20–25% | اضافی nasal leakage، لہجہ بھاری |
| ہونٹ والے حروف (ب، ف، و) | 10–20% | 30% | ناک کی شرکت ضرورت سے زیادہ |
رپورٹ میں واضح مشورہ درج ہوا کہ “غیر غنہ حروف کے دوران ناک کا راستہ زیادہ بند رکھیں، سانس کو منہ کے راستے سے نکلنے دیں، ہر test کے درمیان nose-resonance گراف دیکھیں کہ leakage کم ہو رہا ہے یا نہیں۔”
مثال 5 — پوری آیت کی مخرج رپورٹ کا خلاصہ
آخر میں 365K مخارج MRI لیب پوری آیت کے لئے ایک summary بھی بناتی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ کن گروپس کے مخارج مضبوط ہیں اور کہاں drift زیادہ ہے۔
| گروپ | مخرج اسکور | اہم observations |
|---|---|---|
| حلقی حروف | 82 / 100 | غین اور خاء اچھے، عین میں کبھی کبھی کمزور بندش |
| پچھلے لسانی حروف (ق، ک) | 74 / 100 | دو جگہ قاف کاف کی طرف drift، باقی مقامات مناسب |
| آگے والے لسانی حروف (س، ص، ت، د، ط وغیرہ) | 88 / 100 | صاد میں ہلکی کمی، مجموعی طور پر واضح |
| شفوی حروف (ب، ف، م، و) | 79 / 100 | بعض مقامات پر ناک کی شرکت زیادہ |
اس طرح استاد اور شاگرد دونوں کے سامنے ایک صاف نقشہ آ جاتا ہے کہ اگلے مہینے کی مشق میں کس گروپ کے مخارج پر سب سے زیادہ توجہ دینی ہے — صرف general comment کے بجائے واضح اور measurable اہداف کے ساتھ۔